تحریر: فاطمہ نساء
حوزہ نیوز ایجنسی|
اربعین، جو کربلا کے المیے کے چالیسویں دن کو کہا جاتا ہے، محض ایک یادگاری تقریب نہیں، بلکہ ایک زندہ تحریک ہے جو ہر سال کروڑوں انسانوں کو ایک پیغام دینے کے لیے متحد کرتی ہے۔ یہ پیغام ظلم کے خلاف مزاحمت، حق کے لیے قربانی اور اخلاقی اقدار کی پاسداری کا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ اجتماع دنیا کا سب سے بڑا پُرامن مذہبی اجتماع بن چکا ہے۔
اربعین کی اہمیت اور اس سے متعلق ہماری ذمہ داریاں گہرے روحانی، اخلاقی اور سماجی پہلوؤں پر مبنی ہیں۔
اربعین کی اہمیت؛ ایک جائزہ
اربعین کی عظمت اس کی تاریخ اور اس سے منسوب روایات میں پوشیدہ ہے۔
1. تاریخی اور روحانی اہمیت:
لغوی طور پر چالیس کے عدد کو ظاہر کرنے والا یہ دن امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے 40 ویں دن کی یاد دلاتا ہے ۔ روایات کے مطابق، اس دن زمین و آسمان امام کے سوگ میں گریہ کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری نے اس دن کربلا پہنچ کر پہلی بار زیارتِ اربعین ادا کی۔ یہ عمل امام کے مقصد سے وفاداری اور اُن کے حقوق کو سمجھنے کی علامت ہے۔
2. ایک عظیم سماجی و روحانی تحریک:
آج اربعین صرف ایک مذہبی رسم نہیں رہی بلکہ یہ ایک عالمی سطح پر اتحاد، ہمدردی اور ایثار کی عملی تصویر بن چکی ہے۔ کروڑوں زائرین، مختلف ممالک اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے، پیدل طویل راہیں طے کرتے ہوئے کربلا پہنچتے ہیں، جس سے ایک ایسا نیٹ ورک بنتا ہے جو جغرافیائی اور نسلی حدوں کو عبور کرتا ہے ۔ یہ سفر، جس میں رضاکار زائرین کی خدمت کرتے ہیں، ایک ایسے معاشرے کا نمونہ ہے جہاں دینا داری، ایثار اور اخوت کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔
اربعین اور ہماری ذمہ داریاں
اربعین کی روح کو برقرار رکھنے کا مطلب صرف اس میں شرکت کرنا نہیں، بلکہ اس کے مقاصد کو اپنی زندگیوں میں شامل کرنا ہے۔
1. حقیقی شعور اور ادراک:
امام حسین علیہ السلام کی زیارت کا اصل مقصد اُن کے حقوق اور مقصد کو پہچاننا ہے ۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اربعین کو محض ایک روایتی جلوس نہ سمجھیں، بلکہ یہ سمجھیں کہ یہ امام کا وہ پیغام ہے جو ظلم و ناانصافی کے خلاف اٹھنے، حق کا ساتھ دینے اور ہر قسم کی استبداد کے سامنے سر نہ جھکانے کا درس دیتا ہے ۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اس بات کی پیشین گوئی کی تھی کہ امام کا مقصد زمانے کے گزرنے کے ساتھ مزید روشن ہوگا اور ہمیں اس روشنی کو پھیلانے والا بننا ہے۔
2. اخلاق اور کردار کی پابندی:
ہماری زیارت اس وقت مقبولِ خداوندی ہوگی جب ہم اس کے آداب کو اپنائیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم:
نماز کی پابندی کریں:
جیسا کہ آیت اللہ سیستانی نے تاکید فرمائی ہے، نماز دین کا ستون ہے اور امام حسین علیہ السلام نے میدانِ کربلا میں بھی نماز کو مقدم رکھا۔
اخلاقیات کا خیال رکھیں:
لباس، گفتار اور برتاؤ میں حیا اور عفت کو مدنظر رکھیں اور کسی بھی ایسے عمل سے گریز کریں جو اس مقدس اجتماع کے وقار کو مجروح کرے۔
اخلاص اور خدمت کا جذبہ رکھیں:
اپنے ہر قدم کو خالصۃً للہ رکھیں اور دوسرے زائرین کی خدمت اور ان کی تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کریں، جس طرح اہلِ کربلا نے اپنے گھروں کے دروازے زائرین کے لیے کھول دیئے۔
3. سماجی اور عملی ذمہ داریاں:
ہمیں اپنے ارد گرد کے ماحول کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ اس عظیم اجتماع کو کامیاب بنانے کے لیے صفائی کا خیال رکھنا اور ماحول کو آلودہ نہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
راستوں اور مراکز پر منتظمین کی ہدایات پر عمل کرنا، تاکہ زائرین کی نقل و حرکت میں آسانی ہو اور کسی کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اختتامی پیغام
اربعین ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنے ایمان اور کردار کو دیکھ سکتے ہیں ۔ یہ ہمیں ایک ایسے راستے پر چلنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو ہمیں ظلم کے خلاف مزاحمت، انسانیت کی خدمت اور خدا کی قربت تک لے جاتا ہے ۔ ہماری سب سے بڑی ذمہ داری اس روح کو اپنی زندگیوں میں زندہ رکھنا ہے تاکہ ہم روزِ قیامت اہلِ بیت علیہم السلام کے ساتھ اٹھائے جائیں۔









آپ کا تبصرہ